تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 25

مَا لَکُمۡ لَا تَنَاصَرُوۡنَ ﴿۲۵﴾
کیا ہے تمھیں ، تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟ En
تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟
En
تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ (اس وقت) تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان سے کہا جائے گا: ﴿مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ یعنی آج تمھارے ساتھ کیا ہوا؟ تم پر یہ کیا مصیبت آن پڑی کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کر سکتے حالانکہ تم تو دنیا میں اس زعم باطل میں مبتلا تھے کہ تمھارے معبود تم سے عذاب کو دور کر دیں گے، تمھاری مدد کریں گے یا اللہ کے ہاں تمھاری سفارش کریں گے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فيقال لهم: {ما لكم لا تناصرون}: أي: ما الذي جرى عليكم اليوم، وما الذي طرقكم، لا ينصر بعضكم بعضاً، ولا يغيث بعضُكم بعضاً، بعدما كنتُم تزعُمون في الدُّنيا أنَّ آلهتكم ستدفعُ عنكم العذابَ وتُغيثكم أو تشفعُ لكم عند الله؟!