تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب مشرکین، ان کی مشرک بیویوں اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کر کے جہنم کے راستوں پر ہانک دیا جائے گا، پھر ان کو روک کر ان سے سوال کیا جائے گا، مگر وہ جواب نہ دے سکیں گے تو وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے خود اپنی گمراہی اور دوسروں کو گمراہ کرنے پر ایک دوسرے کو ملامت کریں گے۔ متبعین اپنے رؤ ساء سے کہیں گے: ﴿اِنَّـكُمْكُنْتُمْتَاْتُوْنَنَاعَنِالْیَمِیْنِ ﴾”تمھی ہمارے پاس دائیں طرف سے آتے تھے۔“ یعنی تم نے قوت اور جبر کے ساتھ ہمیں گمراہ کیا، اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان لے آتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما جُمِعوا هم وأزواجهم وآلهتُهم وهُدوا إلى صراط الجحيم ووُقِفوا فسُئِلوا فلم يُجيبوا؛ أقبلوا فيما بينَهم يلومُ بعضُهم بعضاً على إضلالِهِم وضلالِهِم، فقال الأتباعُ للمتبوعينَ الرؤساء: {إنَّكُم كنتُم تأتونَنا عن اليمينِ}؛ أي: بالقوَّة والغلبة فتُضِلُّونا، ولولا أنتُم؛ لكُنَّا مؤمنينَ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔