تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَ﴾”اور“ جب ان کو جہنم میں ڈال دیے جانے کا معاملہ متعین ہو جائے گا اور انھیں بھی معلوم ہو جائے گا کہ وہ جہنم میں جانے والوں میں شامل ہیں تو کہا جائے گا: ﴿قِفُوْهُمْ ﴾”ان کو ٹھہراؤ!۔“ یعنی جہنم میں ڈالنے سے پہلے ﴿اِنَّهُمْمَّسْـُٔوْلُوْنَ۠﴾ وہ دنیا میں جو افترا پردازی کیا کرتے تھے، اس کے بارے میں ان سے سوال کیا جائے گا تاکہ ان کا جھوٹ اور رسوائی سرعام ظاہر ہو جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{و} بعدما يتعيَّن أمرُهم إلى النار ويَعْرِفون أنَّهم من أهلِ دار البوار؛ يُقالُ: {قِفوهُم}: قبل أن توصِلوهم إلى جهنَّم، {إنَّهم مسؤولونَ}: عمَّا كانوا يفترونَه في الدُّنيا؛ ليظهرَ على رؤوس الأشهادِ كَذِبُهم وفضيحتُهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔