تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 19

فَاِنَّمَا ہِیَ زَجۡرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَاِذَا ہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ ﴿۱۹﴾
سو وہ بس ایک ہی ڈانٹ ہوگی، تو یکایک وہ دیکھ رہے ہوں گے۔ En
وہ تو ایک زور کی آواز ہوگی اور یہ اس وقت دیکھنے لگیں گے
En
وه تو صرف ایک زور کی جھڑکی ہے کہ یکایک یہ دیکھنے لگیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ وہ تو صرف ایک زور کی آواز ہوگی۔ یعنی اسرافیل صور پھونکے گا ﴿فَاِذَا هُمْ تو یکایک وہ اپنی قبروں سے اٹھا کھڑے کیے جائیں گے ﴿یَنْظُ٘رُوْنَ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے جس طرح ابتدا میں تخلیق کیا گیا تھا، اسی طرح ان کو ان کے تمام اجزاء سمیت، ننگے پاؤ ں، عریاں اور غیر مختون کھڑا کیا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فإنَّما هي زجرةٌ واحدةٌ}: يَنْفُخُ إسرافيلُ فيها في الصُّورِ، {فإذا هم} مبعوثونَ من قبورهم {يَنظُرونَ}: كما ابْتُدِئ خَلْقُهم، بُعثِوا بجميع أجزائِهِم حفاةً عراةً غُرلاً.