تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 20

وَ قَالُوۡا یٰوَیۡلَنَا ہٰذَا یَوۡمُ الدِّیۡنِ ﴿۲۰﴾
اور کہیں گے ہائے ہماری بربادی! یہ تو جزا کا دن ہے۔ En
اور کہیں گے، ہائے شامت یہی جزا کا دن ہے
En
اور کہیں گے کہ ہائے ہماری خرابی یہی جزا (سزا) کا دن ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس حالت میں وہ سخت ندامت کا اظہار کریں گے، انھیں سخت رسوائی اور خسارے کا سامنا ہو گا۔اس وقت وہ اپنی ہلاکت اور موت کو پکاریں گے۔ ﴿وَقَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰؔذَا یَوْمُ الدِّیْنِ اور کہیں گے، ہائے افسوس یہی جزا کا دن ہے۔ یعنی یہ اعمال کی جزا کے لیے یوم حساب ہے۔ وہ ان تمام چیزوں کا اقرار کریں گے جن کا وہ دنیا میں مذاق اڑایا کرتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وفي تلك الحال يُظْهِرون الندمَ والخزيَ والخسارَ، ويَدْعونَ بالويل والثُّبور، {وقالوا يا وَيْلَنا هذا يومُ الدينِ}؛ فقد أقرُّوا بما كانوا في الدنيا به يهزؤون!