تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 18

قُلۡ نَعَمۡ وَ اَنۡتُمۡ دَاخِرُوۡنَ ﴿ۚ۱۸﴾
کہہ دے ہاں! اور تم ذلیل ہو گے۔ En
کہہ دو کہ ہاں اور تم ذلیل ہوگے
En
آپ جواب دیجئے! کہ ہاں ہاں اور تم ذلیل (بھی) ہوں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب ان کی غرض و غایت کی یہ انتہا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ ان کو ایسا جواب دیں جو ان کی ترہیب پر مشتمل ہو، چنانچہ فرمایا: ﴿قُ٘لْ نَعَمْ کہہ دیجیے ہاں! تمھیں اور تمھارے آباء و اجداد کو دوبارہ زندہ کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا ﴿وَاَنْتُمْ دَاخِرُوْنَ اور تم اس وقت نہایت ذلیل اور بے بس ہو گے، اللہ تعالیٰ کی قدرت کے لیے دشوار ہو گے نہ اس کی نافرمانی کر سکو گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولمَّا كانَ هذا منتهى ما عندَهم وغايةَ ما لَدَيْهم؛ أمر الله رسولَه أن يُجيبَهم بجواب مشتمل على ترهيِبِهم ، فقال: {قل نعم}: ستُبْعَثون أنتم وآباؤكم الأولون، {وأنتُم داخِرون}: ذَليلون صاغِرون لا تمتَنعون، ولا تَسْتَعْصون على قدرةِ الله.