تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
نیز ان کی یہ بات بھی نہایت تعجب خیز ہے کہ انھوں نے زمین اور آسمانوں کے رب کی قدرت کو ہر لحاظ سے ناقص آدمی کی قدرت پر قیاس کر لیا، چنانچہ حیات بعدالموت کو بعید سمجھ کر اس کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ءَاِذَامِتْنَاوَؔكُنَّاتُرَابً٘اوَّعِظَامًاءَاِنَّالَمَبْعُوْثُ٘وْنَۙاَوَاٰبَآؤُنَاالْاَوَّلُوْنَ﴾”کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیوں کا پنجر بن چکے ہوں گے اس وقت ہمیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا؟ کیا ہمارے پہلے آباء واجداد کو بھی دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن العجب أيضاً قياسُهم قدرةَ ربِّ الأرض والسماواتِ على قدرةِ الآدميِّ الناقص من جميع الوجوه، فقالوا استبعاداً وإنكاراً: {أإذا مِتْنا وكُنَّا تُراباً وعِظاماً أإنَّا لَمَبْعوثونَ. أوَ آباؤنا الأوَّلونَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔