تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 16

ءَ اِذَا مِتۡنَا وَ کُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ ﴿ۙ۱۶﴾
کیا جب ہم مر گئے اور مٹی اور ہڈیاں ہو چکے تو کیا واقعی ہم ضرور اٹھائے جانے والے ہیں؟ En
بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا پھر اٹھائے جائیں گے؟
En
کیا جب ہم مر جائیں گے اور خاک اور ہڈی ہو جائیں گے پھر کیا (سچ مچ) ہم اٹھائے جائیں گے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

نیز ان کی یہ بات بھی نہایت تعجب خیز ہے کہ انھوں نے زمین اور آسمانوں کے رب کی قدرت کو ہر لحاظ سے ناقص آدمی کی قدرت پر قیاس کر لیا، چنانچہ حیات بعدالموت کو بعید سمجھ کر اس کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ءَاِذَا مِتْنَا وَؔكُنَّا تُرَابً٘ا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُ٘وْنَۙ اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیوں کا پنجر بن چکے ہوں گے اس وقت ہمیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا؟ کیا ہمارے پہلے آباء واجداد کو بھی دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومن العجب أيضاً قياسُهم قدرةَ ربِّ الأرض والسماواتِ على قدرةِ الآدميِّ الناقص من جميع الوجوه، فقالوا استبعاداً وإنكاراً: {أإذا مِتْنا وكُنَّا تُراباً وعِظاماً أإنَّا لَمَبْعوثونَ. أوَ آباؤنا الأوَّلونَ}.