تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 15

وَ قَالُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۚۖ۱۵﴾
اور کہتے ہیں یہ صاف جادو کے سوا کچھ نہیں۔ En
اور کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے
En
اور کہتے ہیں کہ یہ تو بالکل کھلم کھلا جادو ہی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب ان کے پاس حق آ گیا تو حق کے بارے میں ان کا یہ قول بھی تعجب خیز ہے ﴿اِنْ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ یہ تو محض جادو ہے پس انھوں نے اعلیٰ ترین اور جلیل ترین چیز کو خسیس اور حقیر ترین چیز کے مرتبے پر گردانا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومن العجب أيضاً قولُهُم للحقِّ لما جاءهم: {إنْ هذا إلاَّ سحرٌ مبينٌ}: فجعلوا أعلى الأشياء وأجلَّها ـ وهو الحقُّ ـ في رتبة أخسِّ الأشياء وأحقرِها.