تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 150

اَمۡ خَلَقۡنَا الۡمَلٰٓئِکَۃَ اِنَاثًا وَّ ہُمۡ شٰہِدُوۡنَ ﴿۱۵۰﴾
یا ہم نے فرشتوں کو مؤنث پیدا کیا، جب کہ وہ حاضر تھے۔ En
یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے
En
یا یہ اس وقت موجود تھے جبکہ ہم نے فرشتوں کو مؤنﺚ پیدا کیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی دروغ گوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّهُمْ شٰهِدُوْنَ کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے؟ یعنی کیا وہ ان کی تخلیق کے گواہ ہیں؟ ایسا نہیں ہے، وہ فرشتوں کی تخلیق کو دیکھ نہیں رہے تھے لہذا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا قول بلاعلم اور اللہ تعالیٰ پر بہتان ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

قال تعالى في بيان كَذِبِهم: {أمْ خَلَقْنا الملائكةَ إناثاً وهم شاهِدونَ}: خَلْقَهم؛ أي: ليس الأمر كذلك؛ فإنَّهم ما شَهِدوا خلقَهم، فدلَّ على أنَّهم قالوا هذا القول بلا علم، بل افتراءٌ على الله.