تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی دروغ گوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَمْخَلَقْنَاالْمَلٰٓىِٕكَةَاِنَاثًاوَّهُمْشٰهِدُوْنَ ﴾”کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے؟“ یعنی کیا وہ ان کی تخلیق کے گواہ ہیں؟ ایسا نہیں ہے، وہ فرشتوں کی تخلیق کو دیکھ نہیں رہے تھے لہذا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا قول بلاعلم اور اللہ تعالیٰ پر بہتان ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال تعالى في بيان كَذِبِهم: {أمْ خَلَقْنا الملائكةَ إناثاً وهم شاهِدونَ}: خَلْقَهم؛ أي: ليس الأمر كذلك؛ فإنَّهم ما شَهِدوا خلقَهم، فدلَّ على أنَّهم قالوا هذا القول بلا علم، بل افتراءٌ على الله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔