تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے: ﴿فَاسْتَفْتِهِمْ ﴾ یعنی غیراللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے والوں سے پوچھیے، جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، انھوں نے شرک کے ساتھ ساتھ، اللہ تعالیٰ کو ایسی صفات سے موصوف کیا جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں ﴿اَلِرَبِّكَالْبَنَاتُوَلَهُمُالْبَنُوْنَ﴾”کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں؟“ یہ نہایت ہی ظالمانہ تقسیم اور جور پر مبنی قول ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد بنا دی، اور دونوں اقسام میں کمتر قسم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دی، یعنی اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بنا دیں حالانکہ وہ خود اپنے لیے بیٹیوں پر راضی نہیں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا: ﴿وَیَجْعَلُوْنَلِلّٰهِالْبَنٰتِسُبْحٰؔنَهٗ١ۙوَلَهُمْمَّایَشْتَهُوْنَ﴾ (النحل: 16؍57) ”اور وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں مقرر کرتے ہیں اور خود اپنے لیے وہ مقرر کرتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔“ نیز اس لحاظ سے انھوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لنبيِّه - صلى الله عليه وسلم - {فاسْتَفْتِهِمْ}؛ أي: اسأل المشركين باللهِ غيرَه، الذين عبدوا الملائكةَ وزَعَموا أنَّها بناتُ الله، فجمعوا بين الشركِ بالله ووصفِهِ بما لا يَليقُ بجلالِهِ. {ألربِّكَ البناتُ ولهم البنونَ}؛ أي: هذه قسمةٌ ضيزى، وقولٌ جائرٌ من جهة جعلهم الولدَ لله تعالى، ومن جهة جعلِهِم أردأ القسمينِ وأخسَّهما له، وهو البناتُ، التي لا يَرْضَوْنَهُنَّ لأنفسِهِم؛ كما قال في الآية الأخرى: {ويَجْعَلونَ لله البناتِ سبحانَه ولهم ما يَشْتَهونَ}، ومن جهةِ جعلِهِم الملائكةَ بناتٍ لله، وحكمِهِم بذلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔