تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 151

اَلَاۤ اِنَّہُمۡ مِّنۡ اِفۡکِہِمۡ لَیَقُوۡلُوۡنَ ﴿۱۵۱﴾ۙ
سن لو !بے شک وہ یقینا اپنے جھوٹ ہی سے کہتے ہیں En
دیکھو یہ اپنی جھوٹ بنائی ہوئی (بات) کہتے ہیں
En
آگاه رہو! کہ یہ لوگ صرف اپنی افترا پردازی سے کہہ رہے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْــكِهِمْ آگاہ رہو! یہ لوگ صرف افترا پردازی سے یعنی واضح جھوٹ کی بنا پر ﴿لَیَقُوْلُوْنَۙ۰۰ وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے، بلاشک یہ جھوٹے ہیں۔ ﴿اَصْطَفَى کیا اس نے ترجیح دی ہے یعنی اس نے چنا ہے ﴿الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِیْنَؕ۰۰ مَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ بیٹوں کی بجائے بیٹیوں کو تم (ظلم و جور پر مبنی) کیسا فیصلہ کرتے ہو ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوْنَ کیا تم نصیحت حاصل کر کے اس باطل اور ظلم کے حامل قول کو سمجھتے نہیں؟ اگر تم نے نصیحت پکڑی ہوتی تو ہرگز ایسی بات نہ کہتے۔ ﴿اَمْ لَكُمْ سُلْطٰ٘نٌ مُّبِیْنٌ کیا تمھارے پاس کوئی واضح دلیل ہے؟ یعنی کتاب یا رسول کی کوئی واضح حجت ہے؟ یہ سب کچھ خلاف واقعہ ہے، اس لیے فرمایا ﴿فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰؔدِقِیْنَ اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو۔ کیونکہ جو کوئی ایسی بات کہتا ہے جس پر کوئی شرعی دلیل قائم نہ کر سکے، وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے یا بلادلیل اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {ألا إنَّهم من إفْكِهِم}؛ أي: كذبهم الواضح؛ {ليَقولونَ وَلَدَ اللهُ وإنَّهم لَكاذبونَ. أصطفى}؛ أي: اختار {البناتِ على البنينَ. مالَكُم كيفَ تَحْكُمونَ}: هذا الحكمَ الجائرَ. {أفلا تَذَكَّرونَ}: وتميِّزونَ هذا القول الباطل الجائر؟ فإنَّكم لو تَذَكَّرْتُم؛ لم تقولوا هذا القول. {أم لكم سلطانٌ مبينٌ}؛ أي: حجَّة ظاهرةٌ على قولكم من كتابٍ أو رسول، وكلُّ هذا غير واقع، ولهذا قال: {فأتوا بكتابِكُم إن كُنتُم صادقينَ}: فإنَّ مَنْ يقولُ قولاً لا يُقيم عليه حجَّة شرعيَّة؛ فإنَّه كاذبٌ متعمِّدٌ أو قائلٌ على الله بلا علم.