تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 14

وَ اِذَا رَاَوۡا اٰیَۃً یَّسۡتَسۡخِرُوۡنَ ﴿۪۱۴﴾
اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو خوب مذاق اڑاتے ہیں۔ En
اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو ٹھٹھے کرتے ہیں
En
اور جب کسی معجزے کو دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

نیز یہ بھی تعجب خیز ہے کہ جب ان کے سامنے ایسے دلائل بیان کیے جاتے ہیں اور ایسی نشانیوں کے ذریعے سے یاد دہانی کروائی جاتی ہے جن کے سامنے بڑے بڑے عقل مند لوگوں کی گردنیں جھک جاتی ہیں تو یہ لوگ ان دلائل اور نشانیوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور ان پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومن العَجَبِ أيضاً أنَّهم إذا أُقيمتْ عليهم الأدلَّةُ، وذُكِّروا الآياتِ التي يخضعُ لها فحولُ الرجال وألبابُ الألِبَّاء، يَسْخَرون منها ويَعْجَبونَ.