تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 142

فَالۡتَقَمَہُ الۡحُوۡتُ وَ ہُوَ مُلِیۡمٌ ﴿۱۴۲﴾
پھر مچھلی نے اسے نگل لیا، اس حال میں کہ وہ مستحق ملامت تھا۔ En
پھر مچھلی نے ان کو نگل لیا اور وہ (قابل) ملامت (کام) کرنے والے تھے
En
تو پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وه خود اپنے آپ کو ملامت کرنے لگ گئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ پس مچھلی نے انھیں نگل لیا اور وہ ﴿مُلِیْمٌ ملامت کرنے والے تھے یعنی انھوں نے ایسے فعل کا ارتکاب کیا تھا جس پر ملامت کی جاتی ہے اور وہ ہے آپ کا اپنے رب سے ناراض ہونا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فالْتَقَمَهُ الحوتُ وهو}: وقت التقامِهِ {مُليمٌ}؛ أي: فاعلٌ ما يُلام عليه، وهو مغاضبتُهُ لربِّه.