تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 143

فَلَوۡ لَاۤ اَنَّہٗ کَانَ مِنَ الۡمُسَبِّحِیۡنَ ﴿۱۴۳﴾ۙ
پھر اگر یہ بات نہ ہوتی کہ وہ تسبیح کرنے والوں سے تھا۔ En
پھر اگر وہ (خدا کی) پاکی بیان نہ کرتے
En
پس اگر یہ پاکی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَلَوْلَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ۠ یعنی مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے اگر حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے رب کی نہایت کثرت سے عبادت اور تسبیح و تحمید نہ کی ہوتی اور مچھلی کا لقمہ بن جانے کے بعد، نہایت کثرت سے یہ نہ کہا ہوتا ﴿ لَّاۤ اِلٰ٘هَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّیْؔ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ (الانبیاء: 21؍87) تیرے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔ ﴿لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ ہی میں رہتے یعنی مچھلی کا پیٹ یونس علیہ السلام کی قبر ہوتا، مگر آپ کی عبادت الٰہی اور تسبیح کے باعث اللہ تعالیٰ نے آپ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی اور اہل ایمان جب کبھی کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسی طرح انھیں نجات دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلولا أنَّه كان من المسبِّحينَ}؛ أي: في وقتِه السابقِ بكثرةِ عبادته لربِّه وتسبيحِهِ وتحميدِهِ وفي بطن الحوت حيث قال: {لا إله إلا أنت سبحانَكَ إنِّي كُنْتُ من الظالمين}؛ {لَلَبِثَ في بطنِهِ إلى يوم يُبْعَثونَ}؛ أي: لكانتْ مقبرتَهَ، ولكن بسبب تسبيحِهِ وعبادتِهِ لله؛ نجَّاه الله تعالى، وكذلك ينجي الله المؤمنين عند وقوعهم في الشدائد.