تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
کشتی پہلے ہی سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی جب آپ سوار ہوئے تو کشتی بوجھل ہو گئی۔ انھیں حاجت محسوس ہوئی کہ وہ سواریوں میں سے کسی سواری کو سمندر میں پھینک دیں مگر یوں لگتا ہے کہ کسی کو سمندر میں پھینکنے کے لیے اس کی کوئی امتیازی علامت نہ تھی اس لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کے نام قرعہ نکلے گا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے گا یہ کشتی والوں کا انصاف پر مبنی فیصلہ تھا۔اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اسباب فراہم کر دیتا ہے۔ جب کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو حضرت یونس علیہ السلام کے نام قرعہ نکل آیا ﴿فَكَانَمِنَالْمُدْحَضِیْنَ﴾ یعنی حضرت یونس علیہ السلام قرعہ اندازی میں مغلوب ہو گئے اور ان کو سمندر میں ڈال دیا گیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما رَكِبَ مع غيره والفلك شاحن؛ ثقلتِ السفينةُ، فاحتاجوا إلى إلقاءِ بعضِ الركبانِ، وكأنَّهم لم يجِدوا لأحدٍ مزيَّةً في ذلك، فاقترعوا على أنَّ مَنْ قُرِعَ وغُلِبَ؛ ألقي في البحر؛ عدلاً من أهل السفينة، وإذا أراد الله أمراً؛ هيَّأ أسبابه، فلما اقترعوا؛ أصابتِ القرعةُ يونسَ. {فكان من المُدْحَضينَ}؛ أي: المغلوبين، فألقي في البحر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔