اور ہم نے ابراہیم واسحاق (علیہ السلام) پر برکتیں نازل فرمائیں، اور ان دونوں کی اوﻻد میں بعضے تو نیک بخت ہیں اور بعض اپنے نفس پر صریح ﻇلم کرنے والے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَبٰرَؔكْنَاعَلَیْهِوَعَلٰۤىاِسْحٰقَ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں پر برکت نازل فرمائی۔ یہاں برکت سے مراد نمو، ان کے علم و عمل اور ان کی اولاد میں اضافہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ دونوں کی نسل سے تین عظیم امتوں کو پیدا کیا، قوم عرب کو اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے، قوم اسرائیل اور اہل روم کو اسحاق علیہ السلام کی نسل سے پیدا کیا۔ ﴿وَمِنْذُرِّیَّتِهِمَامُحْسِنٌوَّظَالِمٌلِّنَفْسِهٖمُبِیْنٌ ﴾ یعنی ان دونوں کی نسل میں نیک لوگ بھی تھے اور بدبھی، عدل و انصاف پر چلنے والے لوگ بھی تھے اور ظالم بھی، جن کا ظلم، ان کے کفروشرک کے ذریعے سے عیاں ہوا۔ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا شاید دفع ایہام کے زمرے میں آتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَبٰرَؔكْنَاعَلَیْهِوَعَلٰۤىاِسْحٰقَ ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ برکت دونوں کی اولاد میں ہو اور کامل ترین برکت یہ ہے کہ ان کی تمام ذریت محسنین و صالحین پر مشتمل ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کی اولاد میں محسن بھی ہوں گے اور ظالم بھی۔ واللہ أعلم.
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وبارَكْنا عليه وعلى إسحاقَ}؛ أي: أنْزَلْنا عليهما البركةَ التي هي النمو والزيادة في علمهما وعملهما وذريتهما، فنشر الله من ذُرِّيَّتِهِما ثلاث أمم عظيمة: أمة العرب من ذُرِّيَّةِ إسماعيلَ، وأمة بني إسرائيل، وأمة الروم من ذُرِّيَّةِ إسحاقَ. {ومن ذُرِّيَّتِهِما محسنٌ وظالمٌ لنفسِهِ مبينٌ}؛ أي: منهم الصالح والطالح، والعادل والظالم، الذي تبيَّن ظلمُهُ بكفرِهِ وشركِهِ، ولعل هذا من باب دفع الإيهام؛ فإنَّه لمَّا قال: {وبارَكْنا عليه وعلى إسحاقَ}؛ اقتضى ذلك البركة في ذُرِّيَّتِهِما، وأنَّ من تمام البركة أن تكون الذُّرِّيَّة كلُّهم محسنين، فأخبر الله تعالى أنَّ منهم محسناً وظالماً. والله أعلم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔