تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے دو بندوں اور رسولوں یعنی عمران کے بیٹوں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان دونوں کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، ان کو اور ان کی قوم کو ان کے دشمن فرعون سے نجات دی، ان کے دشمن کو ان کی نظروں کے سامنے سمندر میں غرق کر کے ان کی مدد فرمائی اور ان پر حق و باطل کو واضح کرنے والی کتاب یعنی تورات نازل کی جو شرعی احکامات، مواعظ اور ہر چیز کی تفصیل پر مشتمل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائی، انھیں دین عطا کیا جو ایسے احکامات و قوانین پر مشتمل تھا، جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اس راستے پر گامزن کر کے ان پر احسان فرمایا۔ ﴿وَتَرَؔكْنَاعَلَیْهِمَافِیالْاٰخِرِیْنَۙ۰۰سَلٰ٘مٌعَلٰىمُوْسٰؔىوَهٰرُوْنَ ﴾ یعنی ان کے بعد آنے والوں میں ان کی مدح، ثنائے حسن اور سلام کو باقی رکھا۔ ان کے اپنے زمانے کے لوگوں میں، ان کی مدح و ثنا کا موجود ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ﴿اِنَّاكَذٰلِكَنَجْزِیالْمُحْسِنِیْنَ۰۰اِنَّهُمَامِنْعِبَادِنَاالْمُؤْمِنِیْنَ ﴾”بے شک ہم نیکو کار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ بے شک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يذكُرُ تعالى منَّته على عبديه ورسوليه موسى وهارون ابني عمران بالنبوَّة والرسالة والدعوة إلى الله تعالى، ونجاتهما وقومهما من عدوِّهما فرعون، ونصرهما عليه، حتى أغرقه الله وهم ينظرون، وإنزال الله عليهما الكتاب المستَبين، وهو التوراة التي فيها الأحكام والمواعظُ وتفصيلُ كلِّ شيء، وأنَّ الله هداهما الصراطَ المستقيم؛ بأنْ شَرَعَ لهما ديناً ذا أحكام وشرائع مستقيمةٍ موصلةٍ إلى الله، ومَنَّ عليهما بسلوكِهِ. {وتَرَكْنا عليهما في الآخرين. سلامٌ على موسى وهارونَ}؛ أي: أبقى عليهما ثناء حسناً وتحيَّةً في الآخرين، ومن باب أولى وأحرى في الأوَّلين. {إنَّا كذلك نَجْزي المحسنين. إنَّهما من عبادِنا المؤمنينَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔