تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 112

وَ بَشَّرۡنٰہُ بِاِسۡحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۱۲﴾
اور ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی، جو نبی ہو گا، صالح لوگوں سے (ہو گا)۔ En
اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی (کہ وہ) نبی (اور) نیکوکاروں میں سے (ہوں گے)
En
اور ہم نے اس کو اسحاق (علیہ السلام) نبی کی بشارت دی جو صالح لوگوں میں سے ہوگا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَبَشَّرْنٰهُ بِـاِسْحٰؔقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِیْنَ اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اور نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔ یہ دوسری خوشخبری ہے جو حضرت اسحاق علیہ السلام کے بارے میں دی گئی جن کے بعد حضرت یقوب علیہ السلام کی خوشخبری دی گئی۔ پس آپ کو اسحاق علیہ السلام کے وجود، ان کی بقا، ان کی ذریت کے وجود، ان کے نبی اور صالح ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور یہ متعدد بشارتیں ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وبَشَّرْناهُ بإسحاقَ نَبِيًّا من الصالحين}: هذه البشارة الثانية بإسحاقَ؛ الذي من ورائِهِ يعقوبَ، فَبُشِّرَ بوجوده وبقائه ووجود ذُرِّيَّتِهِ وكونه نبيًّا من الصالحين؛ فهي بشاراتٌ متعدِّدة.