تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اِنَّهٗمِنْعِبَادِنَاالْمُؤْمِنِیْنَ ﴾”بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔“ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان چیزوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ان کے ایمان نے انھیں درجہ یقین پر پہنچا دیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَنُرِیْۤاِبْرٰهِیْمَمَلَكُوْتَالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِوَلِیَكُوْنَمِنَالْمُوْقِنِیْنَ ﴾ (الانعام:6؍75) ”اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّه من عبادِنا المؤمنينَ}: بما أمر الله بالإيمان به، الذين بَلَغَ بهم الإيمانُ إلى درجة اليقين؛ كما قال تعالى: {وكذلك نُري إبراهيمَ مَلَكوتَ السمواتِ والأرضِ وليكون من الموقنين}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔