تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اگر اللہ تعالیٰ نے استثنا نہ کیا ہوتا تو یہ آیت اس بات کی دلیل تھی کہ وہ کچھ بھی سن گن لینے پر قادر نہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِلَّامَنْخَطِفَالْخَطْفَةَ ﴾ یعنی سوائے ان سرکش شیاطین کے، جو کوئی ایک آدھ بات سن لینے اور چوری کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ﴿فَاَتْبَعَهٗشِهَابٌثَاقِبٌ ﴾ تو اپنے اولیاء تک پہنچنے سے پہلے پہلے شہاب ثاقب انھیں جا لیتا ہے اور آسمان کی خبر منقطع ہو جاتی ہے اور کبھی کبھی شہاب ثاقب کے پہنچنے سے قبل اپنے اولیاء کو خبر جا پہنچاتا ہے وہ اس میں سو جھوٹ اپنی طرف سے شامل کرتے ہیں اور اس ایک بات کے سبب جو انھوں نے آسمان سے سنی تھی، اس جھوٹ کو رائج کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولولا أنه تعالى استثنى؛ لكان ذلك دليلاً على أنَّهم لا يستمعون شيئاً أصلاً، ولكن قال: {إلاَّ مَنْ خَطِفَ الخَطْفَةَ}؛ أي: إلاَّ مَنْ تَلَقَّفَ من الشياطين المَرَدَةِ الكلمةَ الواحدةَ على وجه الخفيةِ والسرقةِ، {فأتْبَعَهُ شهابٌ ثاقبٌ}: تارة يدرِكُه قبل أن يوصِلَها إلى أوليائِهِ فينقطع خبرُ السماء، وتارةً يُخْبِرُ بها قبل أن يدرِكَه الشهابُ، فيكذِبون معها مائةَ كذبةٍ، يروِّجونها بسبب الكلمةِ التي سُمِعَتْ من السماء.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔