تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَتَرَؔكْنَاعَلَیْهِفِیالْاٰخِرِیْنَۖ۰۰سَلٰ٘مٌعَلٰۤىاِبْرٰهِیْمَ﴾ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیم علیہ السلام کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰ٘مٌعَلٰۤىاِبْرٰهِیْمَ ﴾ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیم علیہ السلام پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا: ﴿قُ٘لِالْحَمْدُلِلّٰهِوَسَلٰ٘مٌعَلٰىعِبَادِهِالَّذِیْنَاصْطَفٰى ﴾ (النحل: 27؍59) ”اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وتركنا عليه في الآخرين. سلام على إبراهيم}؛ أي: وأبقينا عليه ثناءً صادقاً في الآخرين؛ كما كان في الأولين؛ فكل وقت بعد إبراهيم عليه السلام؛ فإنَّه فيه محبوبٌ معظَّم مثنى عليه. {سلامٌ على إبراهيم}؛ أي: تحية عليه؛ كقوله: {قُل الحمدُ لله وسلامٌ على عبادِهِ الذين اصطفى}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔