ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 108

وَ تَرَکۡنَا عَلَیۡہِ فِی الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾ۖ
اور پیچھے آنے والوں میں اس کے لیے یہ بات چھوڑ دی۔ En
اور پیچھے آنے والوں میں ابراہیم کا (ذکر خیر باقی) چھوڑ دیا
En
اور ہم نے ان کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 108تا111) {وَ تَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ …:} ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیات (۷۸ تا ۸۱)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

108۔ اور پچھلے لوگوں میں اس کا ذکر خیر چھوڑ دیا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَتَرَؔكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ۰۰ سَلٰ٘مٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ یعنی ہم نے قربانی کو، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سچی مدح و ثنا کے لیے، آنے والے لوگوں میں اسی طرح باقی رکھا جس طرح گزرے ہوئے لوگوں میں جاری تھی۔ ابراہیم علیہ السلام کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو انھیں محبت، تعظیم اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ﴿سَلٰ٘مٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ یعنی اللہ کی طرف سے ابراہیم علیہ السلام پر سلام ہے، جیسے اس آیت کریمہ میں فرمایا: ﴿قُ٘لِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلٰ٘مٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى (النحل: 27؍59) اے نبی! کہہ دیجیے، ہر قسم کی ستائش اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وتركنا عليه في الآخرين. سلام على إبراهيم}؛ أي: وأبقينا عليه ثناءً صادقاً في الآخرين؛ كما كان في الأولين؛ فكل وقت بعد إبراهيم عليه السلام؛ فإنَّه فيه محبوبٌ معظَّم مثنى عليه. {سلامٌ على إبراهيم}؛ أي: تحية عليه؛ كقوله: {قُل الحمدُ لله وسلامٌ على عبادِهِ الذين اصطفى}.