تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 107

وَ فَدَیۡنٰہُ بِذِبۡحٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۰۷﴾
اور ہم نے اس کے فدیے میں ایک بہت بڑا ذبیحہ دیا۔ En
اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا
En
اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَفَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کا ان کو فدیہ دیا۔ یعنی اسماعیل علیہ السلام کے بدلے میں ایک عظیم قربانی عطا ہوئی جس کو ابراہیم علیہ السلام نے ذبح فرمایا۔ یہ قربانی اس لحاظ سے عظیم تھی کہ اس کو اسماعیل علیہ السلام کے فدیہ میں قربان کیا گیا اور اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ یہ جلیل القدر عبادات میں شمار ہوتی ہے،نیز یہ اس لحاظ سے بھی عظمت کی حامل ہے کہ اس کو قیامت تک کے لیے سنت قرار دے دیا گیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وفديناه بِذبْحٍ عظيم}؛ أي: صار بَدَلَه ذبحٌ من الغنم عظيمٌ ذبحه إبراهيم، فكان عظيماً: من جهة أنَّه كان فداء لإسماعيلَ، ومن جهة أنَّه من جملة العبادات الجليلة، ومن جهة أنه كان قرباناً وسنةً إلى يوم القيامةِ.