تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اِنَّهٰؔذَا ﴾”بے شک یہ بات“ جس کے ذریعے سے ہم نے ابراہیم کا امتحان لیا ﴿لَهُوَالْبَلٰٓؤُاالْمُبِیْنُ ﴾” البتہ وہ ایک واضح آزمائش تھی“ اس کے ذریعے سے ابراہیم علیہ السلام کا اخلاص، اپنے رب کے لیے آپ کی کامل محبت اور آپ کی دوستی عیاں ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسماعیل علیہ السلام عطا فرمائے، حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ خود رحمٰن کے خلیل تھے اور خلت محبت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ ایک ایسا منصب ہے جو مشارکت کو قبول نہیں کرتا اور تقاضا کرتا ہے کہ قلب کے تمام اجزاء محبوب سے وابستہ رہیں۔ چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قلب کے کسی گوشہ میں، آپ کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کی محبت جاگزیں تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت کو پاک صاف کرنے اور خلت کی آزمائش کا ارادہ فرمایا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ہستی کو قربان کر دینے کا حکم دیا جو آپ کے رب کی محبت سے مزاحم تھی۔و اللہ أعلم۔
جب ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو خواہشات نفس پر مقدم رکھتے ہوئے، اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم کر لیا تو قلب سے وہ داعیہ زائل ہو گیا جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے مزاحم تھا۔ اب بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی فائدہ باقی نہ رہا۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّهٰؔذَالَهُوَالْبَلٰٓؤُاالْمُبِیْنُ۰۰ ﴾”بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّ هذا}: الذي امتحنَّا به إبراهيمَ عليه السلام {لهو البَلاءُ المُبينُ}؛ أي: الواضح الذي تَبَيَّنَ به صفاءُ إبراهيم وكمالُ محبَّتِهِ لربِّه وخلَّتِهِ؛ فإن إسماعيلَ عليه الصلاة (والسلام) لما وَهَبَهُ الله لإبراهيم؛ أحبَّه حبًّا شديداً، وهو خليل الرحمن، والخلَّة أعلى أنواع المحبة، وهو منصبٌ لا يقبل المشاركة، ويقتضي أن تكونَ جميعُ أجزاء القلب متعلقةً بالمحبوب، فلما تعلقتْ شعبةٌ من شُعَبِ قلبِهِ بابنه إسماعيلَ؛ أراد الله تعالى أن يُصَفِّي وُدَّه ويختبرَ خُلَّتَهَ، فأمره أن يذبح مَنْ زاحَمَ حبُّه حبَّ ربِّه، فلما قَدَّمَ حبَّ الله وآثره على هواه وعزم على ذبحِهِ وزال ما في القلب من المزاحم، بقي الذبحُ لا فائدة فيه؛ فلهذا قال: {إنَّ هذا لهو البلاءُ المبينُ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔