تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرْنٰهُبِغُلٰمٍحَلِیْمٍ ﴾”تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔“ بلاشک اس سے مراد اسماعیل علیہ السلام ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاق علیہ السلام کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاق علیہ السلام کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے: ﴿فَبَشَّرْنٰهَابِـاِسْحٰؔقَ١ۙوَمِنْوَّرَؔآءِاِسْحٰؔقَیَعْقُوْبَ ﴾ (ہود: 11؍71) ”ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔“ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاق علیہ السلام ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فاستجابَ اللَّه له وقال: {فبشَّرناه بغلام حَليم}: وهذا إسماعيلُ عليه السلام بلا شكٍّ؛ فإنَّه ذكر بعدَه البشارة بإسحاقَ، ولأنَّ الله تعالى قال في بُشراه بإسحاقَ: {فبشَّرنْاها بإسحاقَ ومِن وراء إسحاقَ يعقوبَ}: فدلَّ على أنَّ إسحاقَ غير الذبيح، ووَصَفَ الله إسماعيلَ عليه السلام بالحلم، وهو يتضمَّنُ الصبرَ وحسنَ الخُلُق وسَعَةَ الصدر والعفو عَمَّنْ جنى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔