(آیت 101) {فَبَشَّرْنٰهُبِغُلٰمٍحَلِيْمٍ:} یعنی ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انھیں ایک بہت حلم والے لڑکے کی بشارت دی۔ حلم میں صبر، حسنِ خلق، حوصلے کی وسعت اور زیادتی کرنے والوں سے درگزر شامل ہے۔ عموماً اس کا ترجمہ بردباری کیا جاتا ہے۔ یہ بیٹا اسماعیل علیہ السلام تھا۔ ابراہیم علیہ السلام نے یا تو یہ دعا کافی عمر ہونے کے بعد کی، یا ان کی دعا اور اس کی قبولیت میں کئی سال کا وقفہ ہوا، کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا: «اَلْحَمْدُلِلّٰهِالَّذِيْوَهَبَلِيْعَلَىالْكِبَرِاِسْمٰعِيْلَوَاِسْحٰقَ»[إبراہیم: ۳۹]”سب تعریف اس اللہ کی ہے جس نے مجھے بڑھاپے کے باوجود اسماعیل اور اسحاق عطا کیے۔“ ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کو وادی غیر ذی زرع (مکہ) میں چھوڑا، جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آب زم زم مہیا فرمایا اور قبیلہ بنو جرہم کو لابسایا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11۔ 1 حَلِیْمٍ کہہ کر اشارہ فرما دیا کہ بچہ بڑا ہو کر بردبار ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
101۔ چنانچہ ہم نے انہیں ایک بردبار بیٹے کی بشارت [55] دی
[55] سیدنا اسماعیل کی بشارت:۔
آپ گھر بار اور عزیز و اقارب چھوڑ کر شام کے علاقہ میں آئے۔ کافی عمر ہونے کے باوجود ابھی تک اولاد نہ تھی لہٰذا اللہ سے دعا کی کہ مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرما جو میرے گھر کی رونق بنے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس بیٹے کی بشارت دی اس کی نمایاں صفت حلیم تھی اور اس صفت میں سیدنا اسمٰعیلؑ کے قربانی کے واقعہ اور اس موقع پر ان کے بردبار ہونے کی طرف لطیف اشارہ پایا جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبَشَّرْنٰهُبِغُلٰمٍحَلِیْمٍ ﴾”تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔“ بلاشک اس سے مراد اسماعیل علیہ السلام ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کے بعد ساتھ ہی اسحاق علیہ السلام کی بشارت بھی دی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر اسحاق علیہ السلام کے بارے میں اس طرح خوشخبری سنائی ہے: ﴿فَبَشَّرْنٰهَابِـاِسْحٰؔقَ١ۙوَمِنْوَّرَؔآءِاِسْحٰؔقَیَعْقُوْبَ ﴾ (ہود: 11؍71) ”ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔“ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسحاق علیہ السلام ذبیح نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کو حلم سے موصوف کیا ہے، جو صبر، حسن خلق، وسیع القلبی اور قصور واروں سے عفو ودرگزر کو متضمن ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فاستجابَ اللَّه له وقال: {فبشَّرناه بغلام حَليم}: وهذا إسماعيلُ عليه السلام بلا شكٍّ؛ فإنَّه ذكر بعدَه البشارة بإسحاقَ، ولأنَّ الله تعالى قال في بُشراه بإسحاقَ: {فبشَّرنْاها بإسحاقَ ومِن وراء إسحاقَ يعقوبَ}: فدلَّ على أنَّ إسحاقَ غير الذبيح، ووَصَفَ الله إسماعيلَ عليه السلام بالحلم، وهو يتضمَّنُ الصبرَ وحسنَ الخُلُق وسَعَةَ الصدر والعفو عَمَّنْ جنى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔