تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 100

رَبِّ ہَبۡ لِیۡ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۰۰﴾
اے میرے رب! مجھے (لڑکا) عطا کر جو نیکوں سے ہو ۔ En
اے پروردگار مجھے (اولاد) عطا فرما (جو) سعادت مندوں میں سے (ہو)
En
اے میرے رب! مجھے نیک بخت اوﻻد عطا فرما En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿رَبِّ هَبْ لِیْ اے میرے رب مجھے عطا کر بیٹا جو ﴿مِنَ الصّٰؔلِحِیْنَ نیک لوگوں میں سے ہو آپ نے یہ دعا اس وقت فرمائی جب آپ کو اپنی قوم سے بھلائی کی کوئی امید نہ رہی اور آپ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ایک نیک لڑکا عطا کرے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی زندگی اور آپ کی وفات کے بعد کوئی فائدہ دے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ربِّ هَبْ لي}: ولداً يكون {من الصالحين}، وذلك عندما أيس من قومه، ولم يَرَ فيهم خيراً؛ دعا الله أن يَهَبَ له غلاماً صالحاً ينفع الله به في حياتِهِ وبعد مماتِهِ.