تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 83

فَسُبۡحٰنَ الَّذِیۡ بِیَدِہٖ مَلَکُوۡتُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿٪۸۳﴾
سو پاک ہے وہ کہ اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کی کامل بادشاہی ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ En
وہ (ذات) پاک ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے
En
پس پاک ہے وه اللہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور جس کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَسُبْحٰؔنَ الَّذِیْ بِیَدِهٖ مَلَكُ٘وْتُ كُ٘لِّ شَیْءٍ یہ چھٹی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مالک ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اس کی ملکیت اور اس کے غلام ہیں، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں، وہ ان کے اندر اپنے احکام کونی و قدری، احکام شرعی اور احکام جزائی کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے۔ ان کی موت کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ وہ اپنی ملکیت کامل سے ان پر اپنا حکم جزائی نافذ کرے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَّاِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ کسی شک و شبے کے بغیر، تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے کیونکہ قطعی اور واضح دلائل و براہین نہایت تواتر کے ساتھ اس پر دلالت کرتے ہیں۔ نہایت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے کلام کو ہدایت، شفا اور نور بنایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فسبحانَ الذي بيدِهِ مَلَكوتُ كُلِّ شيءٍ}: وهذا دليلٌ سادسٌ؛ فإنَّه تعالى هو الملِكُ المالكُ لكلِّ شيءٍ؛ الذي جميعُ ما سكن في العالم العلويِّ والسفليِّ مُلْكٌ له وعبيدٌ مسخَّرون مدبَّرون، يَتَصَرَّفُ فيهم بأقدارِهِ الحكميَّة وأحكامِهِ الشرعيَّة وأحكامِهِ الجزائيَّة؛ فإعادتُه إيَّاهم بعد موتِهِم لينفذَ فيهم حكم الجزاء من تمام ملكِهِ، ولهذا قال: {وإليه تُرْجَعونَ}: من غير امتراءٍ ولا شكٍّ؛ لتواتُرِ البراهين القاطعةِ والأدلَّةِ الساطعةِ على ذلك. فتبارك الذي جَعَلَ في كلامِهِ الهدى والشفاء والنور.