ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 83

فَسُبۡحٰنَ الَّذِیۡ بِیَدِہٖ مَلَکُوۡتُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿٪۸۳﴾
سو پاک ہے وہ کہ اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کی کامل بادشاہی ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ En
وہ (ذات) پاک ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے
En
پس پاک ہے وه اللہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور جس کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 83) ➊ {فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ: مَلَكُوْتُ مُلْكٌ} (مصدر) میں مبالغہ ہے، اس لیے اس کا ترجمہ کامل بادشاہی کیا گیا ہے۔
➋ {وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ:} یعنی یہ نہیں کہ مٹی میں رَل مل کر تمھارا وجود ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔ نہیں، بلکہ اسے دوبارہ وجود عطا کیا جائے گا۔ یہ بھی نہیں ہو گا کہ تم بھاگ کر کسی اور کے پاس پناہ طلب کر لو، بلکہ تمھیں ہرحال میں اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہو گا، جہاں وہ تمھارے اعمال کے مطابق اچھی یا بری جزا دے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

(1) یعنی یہ نہیں ہوگا کہ مٹی میں رل مل کر مبالغے کا صیغہ قرار دیتے ہیں۔ (فتح القدیر) یعنی ملکوت ملک کا مبالغہ ہے۔ 83۔ 1 یعنی یہ نہیں ہوگا کہ مٹی میں رل مل کر تمہارا وجود ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے نہیں بلکہ اسے دوبارہ وجود عطا کیا جائے گا۔ یہ بھی نہیں ہوگا کہ تم بھاگ کر کسی اور کے پاس پناہ طلب کرلو۔ تمہیں ہر حال اللہ ہی کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہوگا، جہاں وہ عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزا دے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

83۔ پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ ہر [75] چیز کی حکومت ہے اور اسی کی طرح تم لوٹائے جاؤ گے۔
[75] ہر چیز پر حکومت و تسلط، ہر چیز پر تصرف و اختیار تو اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر یہ مشرکین اللہ کے اختیارات دوسروں میں بانٹ کر اللہ پر جو کئی طرح کے عیوب، کمی، نقص وغیرہ کا الزام لگاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات مشرکوں کی ایسی تمام بے ہودگیوں سے پاک ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَسُبْحٰؔنَ الَّذِیْ بِیَدِهٖ مَلَكُ٘وْتُ كُ٘لِّ شَیْءٍ یہ چھٹی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مالک ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اس کی ملکیت اور اس کے غلام ہیں، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں، وہ ان کے اندر اپنے احکام کونی و قدری، احکام شرعی اور احکام جزائی کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے۔ ان کی موت کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ وہ اپنی ملکیت کامل سے ان پر اپنا حکم جزائی نافذ کرے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَّاِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ کسی شک و شبے کے بغیر، تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے کیونکہ قطعی اور واضح دلائل و براہین نہایت تواتر کے ساتھ اس پر دلالت کرتے ہیں۔ نہایت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے کلام کو ہدایت، شفا اور نور بنایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فسبحانَ الذي بيدِهِ مَلَكوتُ كُلِّ شيءٍ}: وهذا دليلٌ سادسٌ؛ فإنَّه تعالى هو الملِكُ المالكُ لكلِّ شيءٍ؛ الذي جميعُ ما سكن في العالم العلويِّ والسفليِّ مُلْكٌ له وعبيدٌ مسخَّرون مدبَّرون، يَتَصَرَّفُ فيهم بأقدارِهِ الحكميَّة وأحكامِهِ الشرعيَّة وأحكامِهِ الجزائيَّة؛ فإعادتُه إيَّاهم بعد موتِهِم لينفذَ فيهم حكم الجزاء من تمام ملكِهِ، ولهذا قال: {وإليه تُرْجَعونَ}: من غير امتراءٍ ولا شكٍّ؛ لتواتُرِ البراهين القاطعةِ والأدلَّةِ الساطعةِ على ذلك. فتبارك الذي جَعَلَ في كلامِهِ الهدى والشفاء والنور.