تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 82

اِنَّمَاۤ اَمۡرُہٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیۡئًا اَنۡ یَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۸۲﴾
اس کا حکم تو، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے۔ En
اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے
En
وه جب کبھی کسی چیز کا اراده کرتا ہے اسے اتنا فرما دینا (کافی ہے) کہ ہو جا، وه اسی وقت ہو جاتی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْـًٔؔا بلاشبہ اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے۔ (شَیْئًا) شرط کے سیاق میں نکرہ ہے، اس لیے ہر چیز کو شامل ہے۔ ﴿اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُ٘نْ فَیَكُوْنُ تو اس سے فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔ یعنی وہ کسی رکاوٹ کے بغیر اسی وقت ہو جاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {إنَّما أمرُهُ إذا أراد شيئاً}: نكرةٌ في سياق الشرط فَتَعُمُّ كلَّ شيءٍ، {أن يقولَ له كُن فيكونُ}؛ أي: في الحال من غير تمانع.