تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّمَاۤاَمْرُهٗۤاِذَاۤاَرَادَشَیْـًٔؔا ﴾”بلاشبہ اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے۔“ (شَیْئًا) شرط کے سیاق میں نکرہ ہے، اس لیے ہر چیز کو شامل ہے۔ ﴿اَنْیَّقُوْلَلَهٗكُ٘نْفَیَكُوْنُ ﴾”تو اس سے فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔“ یعنی وہ کسی رکاوٹ کے بغیر اسی وقت ہو جاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال: {إنَّما أمرُهُ إذا أراد شيئاً}: نكرةٌ في سياق الشرط فَتَعُمُّ كلَّ شيءٍ، {أن يقولَ له كُن فيكونُ}؛ أي: في الحال من غير تمانع.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔