اور کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس پر قادر نہیں کہ ان جیسے اور پیدا کر دے؟ کیوں نہیں اور وہی سب کچھ پیدا کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
En
بھلا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ (ان کو پھر) ویسے ہی پیدا کر دے۔ کیوں نہیں۔ اور وہ تو بڑا پیدا کرنے والا اور علم والا ہے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے چوتھی دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَوَلَ٘یْسَالَّذِیْخَلَقَالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضَ ﴾ یعنی کیا جس ہستی نے آسمانوں اور زمین کی وسعت اور عظمت کے باوجود، ان کو تخلیق فرمایا۔ ﴿بِقٰدِرٍعَلٰۤىاَنْیَّخْلُقَمِثْلَهُمْ ﴾ کیا وہ ان کو بعینہ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ ﴿بَلٰى ﴾”کیوں نہیں“ وہ ان کو دوبارہ وجود بخشے پر قادر ہے کیونکہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسان کی تخلیق سے زیادہ مشکل اور زیادہ بڑی ہے۔ ﴿وَهُوَالْخَلّٰقُالْعَلِیْمُ ﴾ یہ پانچویں دلیل خاص ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے تمام مخلوقات خواہ پہلے گزر چکی ہوں یاآنے والی، چھوٹی ہوں یا بڑی سب کی سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور قدرت کے آثار ہیں۔ جب وہ کسی مخلوق کو تخلیق کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کی نافرمانی نہیں کر سکتی۔ مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرنا اس کی تخلیق کے آثار کا ایک حصہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر دليلاً رابعاً، فقال: {أوَ لَيْسَ الذي خلقَ السمواتِ والأرضَ}: على سعتهما وعظمهما {بقادرٍ على أن يَخْلُقَ مثلَهم}؛ أي: أن يعيدَهم بأعيانهم {بلى}: قادرٌ على ذلك؛ فإنَّ خَلْقَ السماواتِ والأرض أكبرُ من خَلْقِ الناس. {وهو الخلاَّقُ العليمُ}: وهذا دليلٌ خامسٌ؛ فإنَّه تعالى الخلاقُ الذي جميع المخلوقات؛ متقدِّمها ومتأخِّرها، صغيرها وكبيرها؛ كلُّها أثرٌ من آثار خلقِهِ وقدرتِهِ، وأنَّه لا يستعصي عليه مخلوقٌ أراد خَلْقَه؛ فإعادتُهُ للأموات فردٌ من أفراد آثارِ خلقِهِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔