تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 80

الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنَ الشَّجَرِ الۡاَخۡضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنۡتُمۡ مِّنۡہُ تُوۡقِدُوۡنَ ﴿۸۰﴾
وہ جس نے تمھارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کر دی، پھر یکایک تم اس سے آگ جلا لیتے ہو۔ En
جس نے تمہارے لئے سبز درخت سے آگ پیدا کی پھر تم اس (کی ٹہنیوں کو رگڑ کر ان) سے آگ نکالتے ہو
En
وہی جس نے تمہارے لئے سبز درخت سے آگ پیدا کر دی جس سے تم یکایک آگ سلگاتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے تیسری دلیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّؔنْهُ تُوْقِدُوْنَ جب وہ سرسبز درخت سے جو مکمل طور پر گیلا ہوتا ہے خشک آگ نکال سکتا ہے، حالانکہ ان دونوں میں سخت تضاد اور تخالف ہے، تو وہ اسی طرح مردوں کو ان کی قبروں سے دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذَكَرَ دليلاً ثالثاً، فقال: {الذي جَعَلَ لكم من الشَّجَرِ الأخضرِ ناراً فإذا أنتُم منه توقِدونَ}: فإذا أخرجَ النار اليابسة من الشجر الأخضرِ الذي هو في غاية الرُّطوبة مع تضادِّهما وشدَّة تخالُفِهما؛ فإخْراجُهُ الموتى من قبورِهِم مثلُ ذلك.