تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے ان موانع کا ذکر فرمایا جن کی وجہ سے ایمان ان کے دلوں تک نہ پہنچ سکا، چنانچہ فرمایا: ﴿اِنَّاجَعَلْنَافِیْۤاَعْنَاقِهِمْاَغْلٰ٘لًا ﴾”بے شک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں۔“ (اَغْلاَلٌ،غُلٌّ) کی جمع ہے یعنی وہ طوق جو گردن میں ڈالا جاتا ہے اور یہ گردن کے لیے ایسے ہی ہے جیسے پاؤ ں کے لیے بیڑی اور ان کی گردن میں پڑے ہوئے یہ طوق بہت بڑے ہوں گے۔ یہ طوق ان کی ٹھوڑیوں تک ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ ﴿فَهُمْمُّقْمَحُوْنَ ﴾ پس وہ ان طوقوں کی سختی کی وجہ سے اپنے سر اوپر کو اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو جھکا نہیں سکیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وذَكَرَ الموانعَ من وصول الإيمان لقلوبهم، فقال: {إنَّا جَعَلْنا في أعناقِهِم أغلالاً}: وهي جمع غِلٍّ، والغلُّ ما يُغَلُّ به العُنُق؛ فهو للعنق بمنزلةِ القيد للرِّجْل. وهذه الأغلالُ التي في [الأذقان] عظيمةٌ قد وصَلَتْ {إلى}: أذقانهم، ورفعت رؤوسهم إلى فوق. {فهم مُقْمَحُونَ}؛ أي: رافعوا رؤوسهم من شدَّةِ الغلِّ الذي في أعناقهم؛ فلا يستطيعون أن يَخْفِضوها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔