تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 9

وَ جَعَلۡنَا مِنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ سَدًّا وَّ مِنۡ خَلۡفِہِمۡ سَدًّا فَاَغۡشَیۡنٰہُمۡ فَہُمۡ لَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۹﴾
اور ہم نے ان کے آگے سے ایک دیوار کر دی اور ان کے پیچھے سے ایک دیوار، پھر ہم نے انھیں ڈھانک دیا تو وہ نہیں دیکھتے۔ En
اور ہم نے ان کے آگے بھی دیوار بنا دی اور ان کے پیچھے بھی۔ پھر ان پر پردہ ڈال دیا تو یہ دیکھ نہیں سکتے
En
اور ہم نے ایک آڑ ان کے سامنے کردی اورایک آڑ ان کے پیچھے کردی، جس سے ہم نے ان کو ڈھانک دیا سو وه نہیں دیکھ سکتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَجَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا اور ہم نے ان کے آگے اور پیچھے ایک رکاوٹ کھڑی کر دی ہے جو ان کے ایمان لانے سے مانع ہے۔ ﴿فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ پس وہ نہ دیکھ سکتے۔ جہالت اور شقاوت نے انھیں ہر جانب سے گھیر رکھا ہے اس لیے انذار انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وجَعَلْنا مِن بينِ أيْديهم سَدًّا ومن خَلْفِهِم سَدًّا}؛ أي: حاجزاً يحجُزُهم عن الإيمان؛ {فهم لا يُبْصِرونَ}: قد غمرهم الجهلُ والشقاءُ من جميع جوانبهم، فلم تُفِدْ فيهم النِّذارةُ.