تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 7

لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰۤی اَکۡثَرِہِمۡ فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۷﴾
بے شک ان کے اکثر پر بات ثابت ہو چکی، سو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ En
ان میں سے اکثر پر (خدا کی) بات پوری ہوچکی ہے سو وہ ایمان نہیں لائیں گے
En
ان میں سے اکثر لوگوں پر بات ﺛابت ہوچکی ہے سو یہ لوگ ایمان نہ ﻻئیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے آپ کی دعوت کو رد کر دیا اور آپ کے انذار کو قبول نہ کیا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ یعنی ان میں اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کی مشیت نافذ ہو گئی کہ وہ اپنے کفروشرک پر جمے رہیں گے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان حق ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے حق پیش کیا، مگر انھوں نے حق کو ٹھکرا دیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولكن هؤلاء الذين بُعِثْتَ [فيهم] لإنذارِهم بعدما أنذَرْتَهم انقسموا قسمين: قسمٌ ردَّ لما جئتَ به ولم يَقْبَلِ النِّذارة، وهم الذين قال الله فيهم: {لقد حَقَّ القولُ على أكْثَرِهم فهم لا يؤمنونَ}؛ أي: نفذ فيهم القضاءُ والمشيئةُ أنَّهم لا يزالون في كفرهم وشِرْكِهم، وإنَّما حقَّ عليهم القولُ بعد أن عُرِضَ عليهم الحقُّ فرفَضوه؛ فحينئذٍ عوقبوا بالطبع على قلوبهم.