تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 62

وَ لَقَدۡ اَضَلَّ مِنۡکُمۡ جِبِلًّا کَثِیۡرًا ؕ اَفَلَمۡ تَکُوۡنُوۡا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۲﴾
اور بلاشبہ یقینا اس نے تم میں سے بہت سی مخلوق کو گمراہ کر دیا۔ تو کیا تم نہیں سمجھتے تھے۔ En
اور اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا۔ تو کیا تم سمجھتے نہیں تھے؟
En
شیطان نے تو تم میں سے بہت ساری مخلوق کو بہکا دیا۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا اور اس نے تم میں سے بہت زیادہ مخلوق کو گمراہ کیا۔ ﴿اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ یعنی کیا تم میں عقل نہیں جو تمھیں تمھارے رب اور حقیقی سرپرست کے ساتھ موالات رکھنے کا حکم دے اور تمھیں تمھارے بدترین دشمن کو اپنا دوست اور سرپرست بنانے سے روکے۔ اگر تمھاری عقل صحیح ہوتی تو تم ہرگز ایسا نہ کرتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فأضلَّ {منكم جِبِلاًّ كثيراً}؛ أي: خلقاً كثيراً. {أفلم تكونوا تعقلونَ}؛ أي: أفلا كان لكم عقلٌ يأمُرُكم بموالاة ربِّكم ووليِّكم الحقِّ، ويزجركم عن اتِّخاذ أعدى الأعداءِ لكم وليًّا؟ فلو كان لكم عقلٌ صحيحٌ؛ لما فعلتُم ذلك.