تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 61

وَّ اَنِ اعۡبُدُوۡنِیۡ ؕؔ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۶۱﴾
اور یہ کہ میری عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔ En
اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا۔ یہی سیدھا رستہ ہے
En
اور میری ہی عبادت کرنا۔ سیدھی راه یہی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَّ اور میں نے تمھیں حکم دیا تھا: ﴿اَنِ اعْبُدُوْنِیْ کہ میرے اوامر کی تعمیل کرتے اور میری نافرمانی سے بچتے ہوئے میری عبادت کرو۔ ﴿هٰؔذَا یعنی میری عبادت، میری اطاعت اور شیطان کی نافرمانی کرنا ﴿صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ سیدھا راستہ ہے۔ پس صراط مستقیم کے علوم و اعمال انھی مذکورہ دو امور کی طرف راجع ہیں۔تم نے میرے عہد کی حفاظت کی نہ میری وصیت پر عمل کیا بلکہ تم نے اپنے دشمن یعنی شیطان سے دوستی رکھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{و} أمرتُكم: أنْ تعبدوني بامتثال أوامري وترك زَواجِري. {هذا}؛ أي: عبادتي وطاعتي ومعصية الشيطان {صراطٌ مستقيمٌ}: فعُلوم الصراط المستقيم وأعمالُهُ ترجعُ إلى هذين الأمرين؛ أي: فلم تَحْفَظوا عهدي ولم تَعْمَلوا بوصِيَّتي، فواليتُم عدوَّكم.