تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اب جبکہ تم نے شیطان کی اطاعت کی، رحمان کے ساتھ عداوت کی، اس کے ساتھ ملاقات کو جھٹلایا، قیامت یعنی دار جزا میں آ وارد ہوئے اور تم عذاب کے مستحق ٹھہرے تو ﴿هٰؔذِهٖجَهَنَّمُالَّتِیْؔكُنْتُمْتُوْعَدُوْنَ ﴾”یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے“ اور تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کو تم اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھو، یہاں دل دہل جائیں گے، آنکھیں پھر جائیں گی اور بہت بڑی گھبراہٹ کا وقت ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فإذْ أطعتُم الشيطان، وعاديتُم الرحمن، وكذَّبتم بلقائِهِ، ووردتُم القيامةَ دار الجزاء، وحقَّ عليكم القولُ بالعذاب، فَـ {هذه جهنَّمُ التي كنتُم توعَدونَ}: وتكذِّبون بها؛ فانظروا إليها عياناً! فهناك تنزعِجُ منهم القلوبُ، وتزوغُ الأبصارُ، ويحصُلُ الفزعُ الأكبرُ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔