تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 60

اَلَمۡ اَعۡہَدۡ اِلَیۡکُمۡ یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّیۡطٰنَ ۚ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۶۰﴾
کیا میں نے تمھیں تاکیدنہ کی تھی اے اولاد آدم! کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، یقینا وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔ En
اے آدم کی اولاد ہم نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
En
اے اوﻻد آدم! کیا میں نے تم سے قول قرار نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا، وه تو تمہارا کھلا دشمن ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یعنی کیا میں نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تمھیں حکم نہیں دیا تھا اور تمھیں وصیت نہیں کی تھی اور تم سے یہ نہیں کہا تھا ﴿یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّ٘یْطٰ٘نَ اے آدم کی اولاد! شیطان کی عبادت نہ کرنا۔ یعنی اس کی اطاعت نہ کرو؟ یہ زجروتوبیخ ہے اور اس میں ہر قسم کے کفرومعصیت پر زجروتوبیخ داخل ہے، کیونکہ کفرومعاصی کی تمام اقسام شیطان کی اطاعت اور اس کی عبادت کے زمرے میں آتی ہیں۔ ﴿اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔ پس میں نے تمھیں اس سے انتہائی حد تک بچنے کی ہدایت کی، تمھیں اس کی اطاعت سے ڈرایا اور وہ تمھیں جس چیز کی دعوت دیتا ہے میں نے تمھیں اس سے خبردار کیا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ألمْ أعْهَدْ إليكُم}؛ أي: آمرُكُم وأوصيكم على ألسنةِ رُسُلي وأقول لكم: {يا بَني آدمَ أن لا تَعْبُدوا الشيطانَ}؛ أي: لا تطيعوه! وهذا التوبيخ يدخل فيه التوبيخُ عن جميع أنواع الكفرِ والمعاصي؛ لأنَّها كلها طاعةٌ للشيطان وعبادةٌ له، {إنَّه لكم عدوٌّ مُبينٌ}: فحذَّرتكم منه غايةَ التَّحذير، وأنذرتُكم عن طاعتِهِ، وأخبرتُكم بما يدعوكم إليه.