تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل تقویٰ کی جزا کا ذکر کرنے کے بعد مجرموں کی سزا بیان کی ہے۔ ﴿وَ﴾”اور“ ان کو قیامت کے روز کہا جائے گا: ﴿امْتَازُواالْیَوْمَاَیُّهَاالْمُجْرِمُوْنَ ﴾ یعنی اے مجرمو! تم اہل ایمان سے الگ ہو جاؤ۔ یہ حکم اس لیے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ انھیں جہنم میں داخل کرنے سے قبل برسرعام زجروتوبیخ کرے اور ان سے کہے:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لمَّا ذَكَرَ تعالى جزاء المتَّقين؛ ذَكَرَ جزاء المجرمين، {و} أنَّهم يُقال لهم يوم القيامةِ: {امْتازوا اليومَ أيُّها المجرمونَ}؛ أي: تميَّزوا عن المؤمنين، وكونوا على حِدَةٍ؛ ليوبِّخَهم ويُقَرِّعَهم على رؤوس الأشهادِ قبلَ أن يُدْخِلَهُمُ النار، فيقول لهم:
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔