تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 54

فَالۡیَوۡمَ لَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ شَیۡئًا وَّ لَا تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۵۴﴾
پس آج کسی جان پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا اور نہ تمھیں اس کے سوا کوئی بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔ En
اس روز کسی شخص پر کچھ ظلم نہیں کیا جائے گا اور تم کو بدلہ ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے
En
پس آج کسی شخص پر کچھ بھی ﻇلم نہ کیا جائے گا اور تمہیں نہیں بدلہ دیا جائے گا، مگر صرف ان ہی کاموں کا جو تم کیا کرتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَ٘فْ٘سٌ شَیْـًٔؔا پس اس روز کسی شخص پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ یعنی ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے گی نہ ان کی برائیوں میں اضافہ۔ ﴿وَّلَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ یعنی جس خیروشر کا تم ارتکاب کرو گے صرف اسی کی تمھیں جزا و سزا ملے گی۔ پس جس نے بھلائی پائی وہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرے جسے اس کے علاوہ کچھ اور ملا تو اسے صرف اپنے آپ کو ملامت کرنی چاہیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فاليومَ لا تُظْلَمُ نفسٌ شيئاً}: لا يُنْقَصُ من حسناتها ولا يُزاد في سيئاتها. {ولا تُجْزَوْنَ إلاَّ ما كنتُم تعملونَ}: من خيرٍ أو شرٍّ؛ فمن وَجَدَ خيراً؛ فليحمد الله، ومن وَجَدَ غير ذلك؛ فلا يلومنَّ إلاَّ نفسه.