(آیت 54) {فَالْيَوْمَلَاتُظْلَمُنَفْسٌشَيْـًٔا …:} یعنی اس وقت اعلان ہو گا کہ آج کسی جان پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا، نہ یہ کہ ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے اور نہ یہ کہ وہ گناہ اس کے ذمے ڈال دیے جائیں جو اس نے نہیں کیے، بلکہ صرف انھی اعمال کی جزا ملے گی جو وہ کرتے رہے تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
54۔ آج کسی پر ذرہ بھر بھی ظلم نہ کیا جائے گا اور تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے تم عمل کرتے رہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَالْیَوْمَلَاتُظْلَمُنَ٘فْ٘سٌشَیْـًٔؔا ﴾”پس اس روز کسی شخص پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔“ یعنی ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے گی نہ ان کی برائیوں میں اضافہ۔ ﴿وَّلَاتُجْزَوْنَاِلَّامَاكُنْتُمْتَعْمَلُوْنَ ﴾ یعنی جس خیروشر کا تم ارتکاب کرو گے صرف اسی کی تمھیں جزا و سزا ملے گی۔ پس جس نے بھلائی پائی وہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرے جسے اس کے علاوہ کچھ اور ملا تو اسے صرف اپنے آپ کو ملامت کرنی چاہیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فاليومَ لا تُظْلَمُ نفسٌ شيئاً}: لا يُنْقَصُ من حسناتها ولا يُزاد في سيئاتها. {ولا تُجْزَوْنَ إلاَّ ما كنتُم تعملونَ}: من خيرٍ أو شرٍّ؛ فمن وَجَدَ خيراً؛ فليحمد الله، ومن وَجَدَ غير ذلك؛ فلا يلومنَّ إلاَّ نفسه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔