تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اِنْكَانَتْ ﴾”نہیں ہوگا“ اہل قبور کا اپنی قبروں سے اٹھنا ﴿اِلَّاصَیْحَةًوَّاحِدَةً ﴾”مگر ایک ہی زور کی چنگھاڑ۔“ اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے اور تمام مردے جی اٹھیں گے ﴿فَاِذَاهُمْجَمِیْعٌلَّـدَیْنَامُحْضَرُوْنَ ﴾ اولین و آخرین اور جن و انس سب ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے تاکہ ان کے اعمال کا حساب لیا جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إن كانت}: البعثة من القبور {إلاَّ صيحةً واحدةً}: يَنْفُخُ فيها إسرافيلُ في الصور، فتحيا الأجساد؛ {فإذا هم جميعٌ لَدَيْنا مُحْضَرونَ}: الأولون والآخرون، والإنس والجن؛ ليحاسبوا على أعمالهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔