تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 53

اِنۡ کَانَتۡ اِلَّا صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمۡ جَمِیۡعٌ لَّدَیۡنَا مُحۡضَرُوۡنَ ﴿۵۳﴾
نہیں ہوگی مگر ایک ہی چیخ، تو اچانک وہ سب ہمارے پاس حاضر کیے ہوئے ہوں گے۔ En
صرف ایک زور کی آواز کا ہونا ہوگا کہ سب کے سب ہمارے روبرو آحاضر ہوں گے
En
یہ نہیں ہے مگر ایک چیﺦ کہ یکایک سارے کے سارے ہمارے سامنے حاضر کر دیئے جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِنْ كَانَتْ نہیں ہوگا اہل قبور کا اپنی قبروں سے اٹھنا ﴿اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مگر ایک ہی زور کی چنگھاڑ۔ اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے اور تمام مردے جی اٹھیں گے ﴿فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّـدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ اولین و آخرین اور جن و انس سب ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے تاکہ ان کے اعمال کا حساب لیا جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إن كانت}: البعثة من القبور {إلاَّ صيحةً واحدةً}: يَنْفُخُ فيها إسرافيلُ في الصور، فتحيا الأجساد؛ {فإذا هم جميعٌ لَدَيْنا مُحْضَرونَ}: الأولون والآخرون، والإنس والجن؛ ليحاسبوا على أعمالهم.