تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 48

وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۴۸﴾
اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو؟ En
اور کہتے ہیں اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا؟
En
وه کہتے ہیں کہ یہ وعده کب ہوگا، سچے ہو تو بتلاؤ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَیَقُوْلُوْنَ وہ تکذیب کرتے اور عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿مَتٰى هٰؔذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰؔدِقِیْنَ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ وہ قیامت کو دور نہ سمجھیں وہ بہت قریب ہے۔ ﴿مَا یَنْظُ٘رُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً وہ صرف ایک سخت چیخ کا انتظار کررہے ہیں اور وہ صور پھونکنے کی آواز ہو گی۔ ﴿تَاْخُذُهُمْ یعنی صور کی چنگھاڑ انھیں آ لے گی ﴿وَهُمْ یَخِصِّمُوْنَ جبکہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے اور وہ اس آواز کے بارے میں غافل ہوں گے۔ ان کے آپس میں جھگڑے کی حالت میں، جو کہ اکثر غفلت کے وقت ہوتا ہے اور ان کے دل میں اس کے بارے میں خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويقولون}: على وجه التكذيب والاستعجال: {متى هذا الوعدُ إن كُنتُم صادقينَ}. قال الله تعالى: لا يستبعدوا ذلك؛ فإنَّه عن قريبٍ، {ما ينظُرونَ إلاَّ صَيْحَةً واحدةً}: وهي نفخةُ الصور. {تأخُذُهم}؛ أي: تصيبُهم {وهم يَخِصِّمونَ}؛ أي: وهم لاهون عنها، لم تخطُرْ على قلوبِهِم في حال خصومَتِهم وتشاجُرِهم بينَهم، الذي لا يوجد في الغالب إلاَّ وقتَ الغفلة.