تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَیَقُوْلُوْنَ ﴾ وہ تکذیب کرتے اور عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿مَتٰىهٰؔذَاالْوَعْدُاِنْكُنْتُمْصٰؔدِقِیْنَ ﴾”یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔“
اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ وہ قیامت کو دور نہ سمجھیں وہ بہت قریب ہے۔ ﴿مَایَنْظُ٘رُوْنَاِلَّاصَیْحَةًوَّاحِدَةً ﴾”وہ صرف ایک سخت چیخ کا انتظار کررہے ہیں“ اور وہ صور پھونکنے کی آواز ہو گی۔ ﴿تَاْخُذُهُمْ ﴾ یعنی صور کی چنگھاڑ انھیں آ لے گی ﴿وَهُمْیَخِصِّمُوْنَ ﴾”جبکہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے“ اور وہ اس آواز کے بارے میں غافل ہوں گے۔ ان کے آپس میں جھگڑے کی حالت میں، جو کہ اکثر غفلت کے وقت ہوتا ہے اور ان کے دل میں اس کے بارے میں خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ويقولون}: على وجه التكذيب والاستعجال: {متى هذا الوعدُ إن كُنتُم صادقينَ}. قال الله تعالى: لا يستبعدوا ذلك؛ فإنَّه عن قريبٍ، {ما ينظُرونَ إلاَّ صَيْحَةً واحدةً}: وهي نفخةُ الصور. {تأخُذُهم}؛ أي: تصيبُهم {وهم يَخِصِّمونَ}؛ أي: وهم لاهون عنها، لم تخطُرْ على قلوبِهِم في حال خصومَتِهم وتشاجُرِهم بينَهم، الذي لا يوجد في الغالب إلاَّ وقتَ الغفلة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔