تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 47

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ ۙ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنُطۡعِمُ مَنۡ لَّوۡ یَشَآءُ اللّٰہُ اَطۡعَمَہٗۤ ٭ۖ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۴۷﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے اس میں سے خرچ کرو جو تمھیں اللہ نے دیا ہے تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان سے کہتے ہیں جو ایمان لائے، کیا ہم اسے کھلائیں جسے اگر اللہ چاہتا تو کھلا دیتا۔ نہیں ہو تم مگر واضح گمراہی میں۔ En
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو رزق خدا نے تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرو۔ تو کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ بھلا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں جن کو اگر خدا چاہتا تو خود کھلا دیتا۔ تم تو صریح غلطی میں ہو
En
اور ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے میں سے کچھ خرچ کرو، تو یہ کفار ایمان والوں کو جواب دیتے ہیں کہ ہم انہیں کیوں کھلائیں؟ جنہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو خود کھلا پلا دیتا، تم تو ہو ہی کھلی گمراہی میں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ اور جب ان سے کہا جاتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے میں سے کچھ دو یعنی اس رزق سے خرچ کرو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے، اگر وہ چاہتا تو وہ اسے تم سے سلب کر لیتا۔ ﴿قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا کافروں نے مومنوں سے کہا یعنی کفار نے حق کی مخالفت اور مشیت کو حجت بناتے ہوئے کہا: ﴿اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖ ۗ اِنْ اَنْتُمْ (اے مومنو!) کیا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں، جن کو اگر اللہ کھلانا چاہتا تو کھلا دیتا نہیں ہو تم ﴿اِلَّا فِیْ ضَلٰ٘لٍ مُّبِیْنٍ مگر کھلی گمراہی میں کیونکہ تم ہمیں اس بات کا حکم دے رہے ہو۔
ان کا یہ قول ان کی جہالت یا تجاہل پر دلالت کرتا ہے کیونکہ مشیت الٰہی کسی نافرمان کی نافرنی کے لیے ہرگز دلیل نہیں۔ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہو سکتا تاہم اس نے اپنے بندوں کو اختیار عطا کیا ہے اور انھیں قوت سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کر سکتے ہیں۔ اگر وہ کسی ایسی چیز کو ترک کرتے ہیں جس کی تعمیل کا انھیں حکم دیا گیا ہے تو وہ اپنے اختیار سے ترک کرتے ہیں اور ان پر کوئی جبر نہیں ہوتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإذا قيلَ لهم أنفِقوا ممَّا رَزَقَكُمُ اللهُ}؛ أي: من الرزق الذي مَنَّ به اللهُ عليكم، ولو شاء لَسَلَبَكُم إيَّاه، {قالَ الذين كَفَروا للذين آمنوا}: معارضينَ للحقِّ محتجِّين بالمشيئةِ: {أنُطْعِمُ مَن لو يشاءُ الله أطْعَمَهُ إنْ أنتُم}: أيها المؤمنون، لفي {ضلالٍ مبينٍ}: حيث تأمروننا بذلك، وهذا مما يدلُّ على جهلهم العظيم أو تجاهُلِهِم الوخيم؛ فإنَّ المشيئة ليست حجَّةً لعاصٍ أبداً؛ فإنَّه وإنْ كان ما شاءَ اللهُ كان، وما لم يشأ لم يكنْ؛ فإنَّه تعالى مَكَّنَ العبادَ وأعطاهم من القوَّةِ ما يقدرون على فعل الأمرِ واجتنابِ النَّهْي؛ فإذا تَرَكوا ما أمِروا به؛ كان ذلك اختياراً منهم لا جبراً لهم وقهراً.