ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 48

وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۴۸﴾
اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو؟ En
اور کہتے ہیں اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا؟
En
وه کہتے ہیں کہ یہ وعده کب ہوگا، سچے ہو تو بتلاؤ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 48) ➊ { وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ …:} کفار چونکہ قیامت کو نہیں مانتے تھے، اس لیے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ پھر تم قیامت لاتے کیوں نہیں؟ اچھا، یہ بتاؤ کہ وہ کب آئے گی؟ اس سے ان کا مقصود تاریخ معلوم ہونے پر اس کی تیاری نہ تھا، بلکہ محض جھٹلانا اور مذاق اڑانا تھا کہ جب وہ فوراً قیامت نہ لا سکیں گے تو ہم کہیں گے قیامت وغیرہ کچھ نہیں۔
➋ { اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ:} یہ الفاظ ابھارنے کے لیے اور جھوٹا ثابت کرنے میں زور پیدا کرنے کے لیے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

48۔ نیز وہ کہتے ہیں کہ: ”اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ (قیامت) کب پورا ہو گا؟“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قیامت کے بعد کوئی مہلت نہ ملے گی ٭٭
کافر چونکہ قیامت کے آنے کے قائل نہ تھے اس لیے وہ نبیوں سے اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ پھر قیامت کو لاتے کیوں نہیں؟ اچھا یہ تو بتاؤ کہ کب آئے گی؟ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے۔ کہ اس کے آنے کے لیے ہمیں کچھ سامان نہیں کرنے پڑیں گے، صرف ایک مرتبہ صور پھونک دیا جائے گا۔
دنیا کے لوگ روزمرہ کی طرح اپنے اپنے کام کاج میں مشغول ہوں گے جب اللہ تعالیٰ اسرافیل علیہ السلام کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہیں لوگ ادھر ادھر گرنے شروع ہو جائیں گے اس آسمانی تیز و تند آواز سے سب کے سب محشر میں اللہ کے سامنے جمع کر دیئے جائیں گے اس چیخ کے بعد کسی کو اتنی بھی مہلت نہیں ملنی کہ کسی سے کچھ کہہ سن سکے، کوئی وصیت اور نصیحت کر سکے اور نہ ہی انہیں اپنے گھروں کو واپس جانے کی طاقت رہے گی۔ اس آیت کے متعلق بہت سے آثار و احادیث ہیں جنہیں ہم دوسری جگہ وارد کر چکے ہیں۔ اس پہلے نفخہ کے بعد دوسرا نفخہ ہو گا جس سے سب کے سب مر جائیں گے، کل جہان فنا ہو جائے گا، بجز اس ہمیشگی والے اللہ عزوجل کے جسے فنا نہیں۔ اس کے بعد پھر جی اٹھنے کا نفخہ ہو گا۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَیَقُوْلُوْنَ وہ تکذیب کرتے اور عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿مَتٰى هٰؔذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰؔدِقِیْنَ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ وہ قیامت کو دور نہ سمجھیں وہ بہت قریب ہے۔ ﴿مَا یَنْظُ٘رُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً وہ صرف ایک سخت چیخ کا انتظار کررہے ہیں اور وہ صور پھونکنے کی آواز ہو گی۔ ﴿تَاْخُذُهُمْ یعنی صور کی چنگھاڑ انھیں آ لے گی ﴿وَهُمْ یَخِصِّمُوْنَ جبکہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے اور وہ اس آواز کے بارے میں غافل ہوں گے۔ ان کے آپس میں جھگڑے کی حالت میں، جو کہ اکثر غفلت کے وقت ہوتا ہے اور ان کے دل میں اس کے بارے میں خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويقولون}: على وجه التكذيب والاستعجال: {متى هذا الوعدُ إن كُنتُم صادقينَ}. قال الله تعالى: لا يستبعدوا ذلك؛ فإنَّه عن قريبٍ، {ما ينظُرونَ إلاَّ صَيْحَةً واحدةً}: وهي نفخةُ الصور. {تأخُذُهم}؛ أي: تصيبُهم {وهم يَخِصِّمونَ}؛ أي: وهم لاهون عنها، لم تخطُرْ على قلوبِهِم في حال خصومَتِهم وتشاجُرِهم بينَهم، الذي لا يوجد في الغالب إلاَّ وقتَ الغفلة.