تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے فرمایا: ﴿وَمَاتَاْتِیْهِمْمِّنْاٰیَةٍمِّنْاٰیٰتِرَبِّهِمْاِلَّاكَانُوْاعَنْهَامُعْرِضِیْنَ ﴾”ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نشانی آتی یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔“ آیات کی، ان کے رب کی طرف اضافت ان آیات کے کامل اور واضح ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے زیادہ کوئی چیز واضح نہیں۔ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی جملہ تربیت میں سے ایک چیز کہ اس نے اپنی آیات اپنے بندوں تک پہنچائیں جن کے ذریعے سے وہ ان امور میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں جو ان کے لیے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال: {وما تأتيهم مِن آيةٍ مِن آياتِ ربِّهم إلاَّ كانوا عنها معرضينَ}: وفي إضافة الآياتِ إلى ربِّهم دليلٌ على كمالها ووضوحِها؛ لأنَّه ما أبين من آياتِ اللَّه ولا أعظم بياناً، وإنَّ من جملة تربيةِ الله لعبادِهِ أنْ أوصلَ إليهم الآياتِ التي يستدلُّون بها على ما ينفعُهم في دينهم ودنياهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔