تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 45

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اتَّقُوۡا مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ مَا خَلۡفَکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۴۵﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے بچو اس(عذاب) سے جو تمھارے سامنے ہے اور جو تمھارے پیچھے ہے، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ En
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو تمہارے آگے اور جو تمہارے پیچھے ہے اس سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
En
اور ان سے جب (کبھی) کہا جاتا ہے کہ اگلے پچھلے (گناہوں) سے بچو تاکہ تم پر رحم کیا جائے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَمَا خَلْفَكُمْ اور جب ان سے کہا گیا کہ جو تمھارے آگے ہے کہ جو تمھارے پیچھے ہے اس سے ڈرو یعنی برزخ اور قیامت کے احوال اور دنیاوی سزاؤں سے اپنا بچاؤ کرو۔ ﴿لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ شاید! تم پر رحم کیا جائے۔ تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے روگردانی کی اگرچہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آئی، مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإذا قيل لهمُ اتَّقوا ما بَيْنَ أيديكم وما خَلْفَكُم}؛ أي: من أحوال البرزخ والقيامةِ وما في الدُّنيا من العقوبات؛ {لعلَّكُم تُرْحَمونَ}: أعرضوا عن ذلك، فلم يرفعوا به رأساً، ولو جاءَتْهم كلُّ آيةٍ.