تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 44

اِلَّا رَحۡمَۃً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۴۴﴾
مگر ہماری طرف سے رحمت اور ایک وقت تک فائدہ پہنچانے کی وجہ سے(ہم انھیں مہلت دیتے ہیں)۔ En
مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں
En
لیکن ہم اپنی طرف سے رحمت کرتے ہیں اور ایک مدت تک کے لئے انہیں فائدے دے رہے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِلَّا رَحْمَةً مِّؔنَّا وَمَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں۔ یعنی ہم نے ان سے لطف و کرم کرنے اور ایک مدت تک ان کو متمتع کرنے کی بنا پر ان کو ڈبویا نہیں، شاید! وہ ہماری طرف رجوع کریں یا اپنی کوتاہیوں کی تلافی کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إلاَّ رحمةً مِنَّا ومتاعاً إلى حينٍ}: حيث لم نُغْرِقْهم لطفاً بهم وتمتيعاً لهم إلى حينٍ، لعلَّهم يرجِعونَ، أو يستدرِكون ما فَرَطَ منهم.