تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 40

لَا الشَّمۡسُ یَنۡۢبَغِیۡ لَہَاۤ اَنۡ تُدۡرِکَ الۡقَمَرَ وَ لَا الَّیۡلُ سَابِقُ النَّہَارِ ؕ وَ کُلٌّ فِیۡ فَلَکٍ یَّسۡبَحُوۡنَ ﴿۴۰﴾
نہ سورج، اس کے لیے لائق ہے کہ چاند کو جاپکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آنے والی ہے اور سب ایک ایک دائرے میں تیر رہے ہیں۔ En
نہ تو سورج ہی سے ہوسکتا ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اور سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں
En
نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن پرآگے بڑھ جانے والی ہے، اور سب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَ كُلٌّ اور ہر ایک یعنی سورج، چاند، رات اور دن کے لیے اللہ تعالیٰ نے اندازہ مقرر فرما دیا ہے کوئی اس سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ ہر ایک کے لیے وقت مقرر ہے جب ایک وجود میں آتا ہے تو دوسرا معدوم ہو جاتا ہے، بنا بریں فرمایا: ﴿لَا الشَّ٘مْسُ یَنْۢ٘بـَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْ٘قَ٘مَرَ سورج کی یہ مجال نہیں کہ وہ چاند کو جا پکڑے یعنی اس کی بادشاہی میں جو کہ رات ہے، لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ سورج رات کے وقت موجود ہو۔ ﴿وَلَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ اور رات دن سے آگے نہیں بڑھ سکتی کہ وہ دن کی بادشاہت ختم ہونے سے پہلے اس میں داخل ہوجائے۔
﴿وَكُ٘لٌّاور ہر ایک یعنی سورج، چاند اور ستارے ﴿فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں یعنی وہ دائمی طور پر اپنے راستے پر آ جارہے ہیں۔ یہ سب کچھ خالق کائنات اور اس کے اوصاف کی عظمت کی ناقابل تردید دلیل اور برہان ہے خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت، حکمت اور اس موضوع کے متعلق علم کے اثبات کی دلیل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وكلٌّ من الشمس والقمر والليل والنهار قدَّره الله تقديراً لا يتعدَّاه، وكلٌّ له سلطانٌ ووقتٌ، إذا وُجِدَ؛ عُدِمَ الآخرَ، ولهذا قال: {لا الشمسُ ينبغي لها أن تُدْرِكَ القمرَ}؛ أي: في سلطانِهِ الذي هو الليل؛ فلا يمكنُ أن توجدَ الشمسُ في الليل، {ولا الليلُ سابِقُ النهارِ}: فيدخُلُ عليه قبل انقضاءِ سلطانِهِ. {وكلٌّ}: من الشمس والقمر والنجوم {في فَلَكٍ يَسْبِحونَ}؛ أي: يترَّددون على الدوام؛ فكلُّ هذا دليلٌ ظاهرٌ وبرهانٌ باهرٌ على عظمة الخالقِ وعظمةِ أوصافِهِ، خصوصاً وصفَ القدرةِ والحكمةِ والعلم في هذا الموضع.