تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَكُلٌّ ﴾” اور ہر ایک“ یعنی سورج، چاند، رات اور دن کے لیے اللہ تعالیٰ نے اندازہ مقرر فرما دیا ہے کوئی اس سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ ہر ایک کے لیے وقت مقرر ہے جب ایک وجود میں آتا ہے تو دوسرا معدوم ہو جاتا ہے، بنا بریں فرمایا: ﴿لَاالشَّ٘مْسُیَنْۢ٘بـَغِیْلَهَاۤاَنْتُدْرِكَالْ٘قَ٘مَرَ ﴾”سورج کی یہ مجال نہیں کہ وہ چاند کو جا پکڑے“ یعنی اس کی بادشاہی میں جو کہ رات ہے، لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ سورج رات کے وقت موجود ہو۔ ﴿وَلَاالَّیْلُسَابِقُالنَّهَارِ ﴾”اور رات دن سے آگے نہیں بڑھ سکتی“ کہ وہ دن کی بادشاہت ختم ہونے سے پہلے اس میں داخل ہوجائے۔
﴿وَكُ٘لٌّ ﴾”اور ہر ایک“ یعنی سورج، چاند اور ستارے ﴿فِیْفَلَكٍیَّسْبَحُوْنَ ﴾”سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں“ یعنی وہ دائمی طور پر اپنے راستے پر آ جارہے ہیں۔ یہ سب کچھ خالق کائنات اور اس کے اوصاف کی عظمت کی ناقابل تردید دلیل اور برہان ہے خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت، حکمت اور اس موضوع کے متعلق علم کے اثبات کی دلیل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وكلٌّ من الشمس والقمر والليل والنهار قدَّره الله تقديراً لا يتعدَّاه، وكلٌّ له سلطانٌ ووقتٌ، إذا وُجِدَ؛ عُدِمَ الآخرَ، ولهذا قال: {لا الشمسُ ينبغي لها أن تُدْرِكَ القمرَ}؛ أي: في سلطانِهِ الذي هو الليل؛ فلا يمكنُ أن توجدَ الشمسُ في الليل، {ولا الليلُ سابِقُ النهارِ}: فيدخُلُ عليه قبل انقضاءِ سلطانِهِ. {وكلٌّ}: من الشمس والقمر والنجوم {في فَلَكٍ يَسْبِحونَ}؛ أي: يترَّددون على الدوام؛ فكلُّ هذا دليلٌ ظاهرٌ وبرهانٌ باهرٌ على عظمة الخالقِ وعظمةِ أوصافِهِ، خصوصاً وصفَ القدرةِ والحكمةِ والعلم في هذا الموضع.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔